Views : 6463 Added on : 7-Apr-2017
Uploaded by : kamran

اللہ تعالیٰ نے سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمدکو بھی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کو بے نقاب کرنے کرتے ہوئے نسلِ نو کے ایمان کی حفاظت کی سعادت حاصل ہوئی۔ 6جنوری 1956ءکو سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی نے مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے اور اس کے دوسرے جانشین مرزا بشیر الدین محمود کو دعوت مباہلہ دیتے ہوئے پہلا خط لکھا تصفیہ شرائط کیلئے خط و کتاب اور ترسیل شتہارات ورسائل کا سلسلہ سات سال تک چلتا رہا۔ آخر جملہ شرائط پوری ہو جانے کے بعد 26فروری 1963ءعید الفطر کی تاریخ فریقین کے درمیان مقرر ہوئی اور دریائے چناب کے دو پلوں کے درمیان ”چکی“ مقام مباہلہ باہمی رضامندی سے مقرر ہوا۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی اپنے رفقاءسمیت مقررہ تاریخ کو مقررہ مقام پر پہنچ گئے لیکن مرزا محمود نہ خود آیا اور نہ ہی اپنے کسی نمائندہ کو بھیجا جس سے اپنے باپ کے کذب اور جھوٹے ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ اس تاریخی کامیابی پر ہر سال ”فتح مباہلہ ختم نبوت کانفرنس“ کے نام سے ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد کی جاتی ہے جس میں قادیانی سربراہ کو ہر سال مباہلہ کی دعوت دی جاتی ہے۔جس کے بعد اب جانشین سفیر ختم نبوت مولانا محمد الیاس چنیوٹی مدظلہ اپنے والد گرمی کی طرح موجودہ قادیانی سربراہ مرزا مسرور کو دعوت مباہلہ و دعوت ایمان دیتے ہیں اور احقاق حق کیلئے اس کے سامنے میدان میں موجود ہیں۔اسی سلسلہ میں انٹرنیشل ختم نبوت موومنٹ کے زیرِ اہتمام 52ویں سالانہ فتح مباہلہ و ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں منعقد ہوئی جس مےں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ الحمدللہ یہ کانفرنس میسج ٹی وی چینل پر براہ راست نشر 

www.messagetv.tv

Add Your Comments